اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی – ابنا – کی رپورٹ کے مطابق کتاب "باز سازی تاریخ فراموش شدہ"؛ عتبات عالیات: عراق مختلف اسناد و متون کی روشنی میں سن چالیس ہجری سے لے کر سن 1339 ہجری پر محیط عتبات عالیات کے اہم سالانہ واقعات کو پیش کرنے والی کتاب ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں عراق کے مقدس مقامات کی خوبصورت تصاویر کو بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے جو قاجار دور حکومت سے تعلق رکھتی ہیں۔
تاریخ کی ورق گردانی سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے مورخین نے عراق جیسے مسلمان ملک کو زیادہ درخور اعتناء نہیں سمجھا ہے! صرف نظر اس سے کہ اصولی طور پر ہم یا تو اپنے لئے زیادہ اہمیت کے قائل ہیں یا پھر اپنے ساتھ ساتھ مغرب کے لئے۔ باقی ممالک خاص طور پر اپنے ہمسایہ ممالک کو زیادہ خاطر میں نہیں لاتے۔ اس لئے تاریخ نگاروں میں ہمسایہ ممالک جیسے پاکستان، افغانستان، عراق اور ترکیہ وغیرہ پر توجہ کرنے والے خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔
مذکورہ ممالک کے درمیان عراق کو ایک خاص مقام و اہمیت حاصل ہے جس کا سبب اس ملک میں عتبات عالیات کی موجودگی ہے۔ چند صدیوں پہلے ظہور اسلام سے قبل کے زمانہ میں عراق اور ایران واحد حکومت پر مشتمل تھے۔ کبھی کبھار یہ حکومت ایک سے زیادہ بھی ہوجاتی تھی۔ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد عراق ایک آزاد ملک کی حیثیت اختیار کرگیا اور ایران کے ہمسایہ میں ایک خودمختار مملکت کی حیثیت سے ظاہر ہوگیا۔
قومیت پسندی اور مغربیت پسندی کی طرف میلانات نے کچھ مسائل کھڑے کردیے لیکن اس کے باوجود مذہبی روابط عراق میں ایرانیوں کی مسلسل رفت و آمد کا سبب بنتے رہے۔ بعث پارٹی کی آمد اور ایران کے مقابلہ میں مشرقی فرنٹ سے اس کی دلی وابستگی اور مغرب کی طرف میلانات ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان تضاد کا عامل ثابت ہوئے۔ یہ تضاد، جس کے ریشے تاریخ کے سینے میں پیوست تھے، اس بات کا باعث بنا کہ بعثیوں کے تیس سالہ دور حکومت میں دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے کنارہ کش ہوجائیں۔ اس کے علاوہ یہ تضاد دونوں ممالک کے درمیان آٹھ سالہ طویل جنگ کی بنیاد بھی بنا۔ آخرکار لطف الہی اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی عنایت سے صدام کی ظالم حکومت سرنگوں ہوگئی اور اب ایک آج ایک بار پھر دونوں ممالک کے شیعہ فرقوں کے درمیان آمد و رفت اور تہذیبی روابط کا سلسلہ بحال ہوگیا ہے۔
گذشتہ دو صدیوں کے دوران ، ایران و عراق کے تعلقات خاص طور پر ان کے تہذیبی اور مذہبی روابط بہت گہرے رہے ہیں جس کی وجہ نجف میں حوزہ علمیہ اور شیعوں کی زیارتگاہ کا موجود ہونا ہے۔ ایران میں موجود اسناد، ایرانی مطبوعات اور منتشرشدہ کتابوں سے ان تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔
مذکورہ کتاب میں مصنف نے نہایت کوشش اور عرق ریزی کے بعد موجودہ معلومات اور عثمایہ میوزیم ترکیہ کے اسناد کی مدد سے عراق سے متعلق اہم ترین سالانہ واقعات الگ سے جمع کئے ہیں۔ ان واقعات کا ایک بڑا حصہ ایران و عراق کی دو طرفہ تاریخ اور عراق کے بہت سے مسائل پر مشتمل ہے۔کتاب کے منابع میں سے اکثر اسناد، بعض مطبوعات اور چھپی ہوئی کتابوں پر مشتمل ہیں۔ گلستان محل میں زیر نگرانی سلطنتی البم کی نایاب تصاویر کے ایک مجموعے کی شمولیت نے کتاب کی خوبصورتی کو دوچنداں کر دی ہے۔ ان تصاویر کی اکثر و بیشتر تعداد پہلی بار چھپ کر سامنے آرہی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ زیاہ سے زیادہ ہنرمندانہ انداز سے چھپ کر سامنے آئیں۔ یہ تصویریں واقعی بے مثال بھی ہیں اور خوبصورت انداز میں چھپنے کی مستحق بھی۔
قاری اس کتاب کا ایک سرسری جائزہ لینے کے بعد نہایت آسانی سے سن 1339 ہجری قمری سے لے کر سن 1340 ہجری قمری تک کے اہم ترین واقعات کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ فطری بات ہے کہ پہلی صدیوں کا ذکر صرف ایک انتخاب کی حیثیت رکھتا ہے جو زیادہ سنجیدہ نہیں ہے۔ لیکن دور معاصر میں شامل معلومات زیادہ مفید ہیں جو حکومت ناصری کے دوسرے حصے کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔
یہ کتاب جناب سید علی موجانی کی تحریر ہے جسے عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے موسم خزاں سن 1389 ہجری شمسی میں چھاپا۔.......
/169